بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہو تواس کی امامت کاحکم

سوال

ایک حافظ قران کا ایک ہاتھ کہنی کے پاس سے کٹا ہے ایسے حافظ کے پیچھے تراویح ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں  حافظ قرآن کا ایک ہاتھ کہنی کے پاس سے کٹا ہوا ہے  تو ایسے حافظ کی اقتداء میں  پنج وقتہ نماز  یاتراویح کی نماز  پڑھنا  جائز ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و كذلك أعرج يقوم ببعض قدمه، فالاقتداء بغيره أولى تتارخانية، وكذا أجذم برجندي، و مجبوب و حاقن، و من له يد واحدة فتاوى الصوفية عن التحفة. و الظاهر أن العلة النفرة، و لذا قيد الأبرص بالشيوع ليكون ظاهرًا و لعدم إمكان إكمال الطهارة أيضا في المفلوج و الأقطع و المجبوب."

(کتاب الصلوۃ ، باب الامامۃ جلد۱ ص:۵۶۲ ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101995
تاریخ27-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں