بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی کمیٹی کے عہدیدار کا استنجا خانہ کی جگہ میں شیعہ شخص کو پیسے لے کر پاخانہ کرنے کی اجازت دینا

سوال

مسجد میں لیٹرین نہیں ہے، بلکہ استنجا خانہ ہے، اب اگر مسجد کمیٹی کا کوئی ایک فرد کسی کو استنجا خانہ میں پیسے لےکر  پاخانہ کرنے کی اجازت دے، جب کہ مسجد اہلِ سنت و الجماعت کی ہے اور جن کو اجازت دی گئی ہے وہ شیعہ کے جلوس کے شرکاء ہیں۔ تو ایسی صورت میں کمیٹی کے بقیہ افراد کو کیا کرنا  چاہیے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ مسجد میں پاخانہ کے لیے لیٹرین نہیں ہے،  بلکہ استنجا خانہ ہے تو ایسی صورت میں استنجاخانہ میں پاخانہ کرنا اور پاخانہ کرنے کے لیے لوگوں سے رقم لے کر اس کی اجازت دینا درست نہیں تھا؛  لہذا کميٹي کے دیگر افراد اجازت  دینے والے کمیٹی کے مذکورہ فرد سے بازپرس کرسکتے ہیں، اگر وہ آئندہ كے  لیے باز آجاتاہے تو بہتر، ورنہ اس كو معزول بھی كيا جاسكتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہےـ:

"قال في الإسعاف: ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود، وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به."

(کتاب الوقف جلد ۴ ص : ۳۸۰ ط : دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہےـ:

"وفي الجواهر القيم إذا لم يراع الوقف يعزله القاضي."

(کتاب الوقف جلد ۴ ص : ۳۸۰ ط : دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101992
تاریخ27-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں