بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذکران نام کا معنی

سوال

ذکران نام کا کیا مطلب ہے؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں  مذکور لفظ کا درست تلفظ "ذُكْرَانْ"(یعنی ذال پر پیش،کاف پر سکون ،راء پر زبر، پھر الف اورآخر میں نون ساکن کے ساتھ) ہے، جو "ذَكَرْ" کی جمع ہے اور" مذکر "کے معنی میں ہے، قرآنِ کریم میں بھی اسی معنی میں اس کا استعمال ہوا ہے،لہذا مذکورہ نام زیادہ مناسب نہیں ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام یا صحابہ کرام کے ناموں  میں سے کوئی نام رکھاجائے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"لِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ ٤٩ أَوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانا وَإِنَاثا وَيَجۡعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيم قَدِير ٥٠".

(سورۃ الشوری،آیت:۴۹،۵۰)

لسان العرب میں ہے:

"والتذكير: خلافُ التأنيث، والذَكَرُ خلاف الأُنثى، والجمعُ: ذُكورٌ وذَكورةٌ وذِكارٌ وذِكارةٌ وذُكرْانٌ وذِكَرَةٌ".

(لسان العرب،فصل الذال المعجمۃ،مادۃ:ذکر،ج:۴،ص:۳۰۹،ط:دار صادر۔بیروت)

فقظ والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101964
تاریخ27-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں