بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم

سوال

وراثت ایک عورت فوت ہو گئی ہے اسکا شوہر ہے اور تین بیٹیاں ہیں اور عورت کے ماں باپ حیات نہیں ہیں البتہ دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں ، ان کی وراثت کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ  کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کے حقوق متقدمہ یعنی اگر ان پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کیا جائے،پھر اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی سے اسے نافذکیا جائے، اس کے بعد باقی  جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کے108حصے بناکر مرحومہ کے شوہر کو 27 حصے، ہر بیٹی کو 24 حصے، ہر بھائی کو 2 حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا، جب کہ کفن دفن کے اخراجات شوہر کے ذمہ  ہوں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت 12/ 108

شوہر  بیٹی بیٹی بیٹی بھائی بھائی بہن بہن بہن بہن بہن
3 8   1
27 24 24 24 2 2 1 1 1 1 1

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد، ہر بیٹی کو 22.22 فیصد ہر بھائی کو 1.85فیصد اور ہر بہن کو 0.925فیصد ملے گا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101863
تاریخ24-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں