بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضع حمل اور مدتِ رضاعت میں روزہ چھوڑنے کی وجہ سے صرف قضا یا قضا اور کفارہ دونوں ہوں گے

?سوال

بچوں کی پیدائش اور دودھ پلانے کے وقت جو روزہ نہیں رکھ سکے، اس کا کیا حکم ہے؟

صرف قضا یا پھر کفارہ یا قضاو کفارہ دونوں لازم ہوں گے،اگر کفارہ ہے تو ایک روزہ کا کتنا ہوگا، ڈالر کے قیمت کے حساب سے بتائیے گا۔

✓جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی عورت نے بچے کی پیدائش کی وجہ سے روزہ نہیں رکھا یا اس وجہ سے روزہ نہ رکھ سکی کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے دودھ میں کمی ہوجائے گی تو اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے  ان روزوں کی صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها ‌حبل ‌المرأة، وإرضاعها) الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو، ولدهما أفطرتا وقضتا، ولا كفارة عليهما كذا في الخلاصة"

(کتاب الصوم ، الباب الخامس فی الاعذارالتی تبیح الافطار، ج:1، ص:207، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144307101809
تاریخ23-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں