بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں آیت غلط پڑھنے سے نماز کا حکم

سوال

ایک دن میں نماز پڑھا رہا تھا،  آیات پڑھنے میں غلطی ہو گئی "ان الله يرزق من يشاء بغير حساب"  کی جگہ  "ان اللہ يحب الكافرين" پڑھ گیا غلطی سے، کیوں کہ اگلی آیات بھول گیا تھا ، اس کا  معنی  کُفرو شرک تو نہیں ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے درست آیت دوبارہ نہیں پڑھی تھی تو نماز فاسد ہوگئی تھی۔ لہٰذا اس نماز کا اعادہ لازم ہے۔اپنے پیچھے پڑھنے والے نمازیوں کو  بھی اپنی نماز لوٹانے کی خبر دے دے۔ مذکورہ  غلطی کی وجہ  سے    کفر لازم نہیں آیا کیونکہ  قصداً نہیں پڑھا بلکہ غلطی سے پڑھا تھا، اگر چہ اس کا معنی کفریہ ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ذكر في الفوائد لو ‌قرأ ‌في ‌الصلاة بخطأ فاحش ثم رجع وقرأ صحيحا قال عندي صلاته جائزة۔"

 (كتاب الصلاةالباب الخامس في الإمامة،الفصل الأول في الجماعة، ج:1، ص: 82، ط:رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"والقاعدة عند المتقدمين أن ما غير المعنى تغييرا يكون اعتقاده كفرا يفسد في جميع ذلك، سواء كان في القرآن أو لا إلا ما كان من تبديل الجمل مفصولا بوقف تام وإن لم يكن التغيير كذلك، فإن لم يكن مثله في القرآن والمعنى بعيد متغير تغيرا ‌فاحشا يفسد أيضا كهذا الغبار مكان هذا الغراب۔"

(‌‌كتاب الصلاة ‌‌باب ما يفسد الصلاة، ج:1، ص: 631،  ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101670
تاریخ22-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں