بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسی جگہ پر تراویح قائم کرنے کا حکم جہاں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا گیا ہو

سوال

ہم گزشتہ کچھ سالوں سے ایک  حجرے میں تراویح میں ختمِ قرآن کا اہتمام کرتے تھے، ابھی کچھ عرصہ پہلے اس سے  شادی کی تقریبات منعقد ہوئیں، جس میں گانے بجائے گئے،  پوچھنا یہ ہے کہ کیا اب اس حجرے میں  تراویح میں ختمِ قرآن کا اہتمام کیا جاسکتا ہے؟ شرعاً اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ حجرے میں  نماز قائم کرنے سے کوئی مانع نہیں پایا جا رہا، لہٰذا اس میں حسبِ سابق تراویح میں ختمِ قرآن کا اہتمام کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اس حجرے کے مالکان نے اگر اس میں خود سے ایسی تقریبات منعقد کی تھیں جوکہ غیر شرعی امور پر مشتمل تھیں  یا کسی دوسرے شخص نے کی تھیں  مگر اس میں حجرے کے مالکان کی رضامندی شامل تھی تو انہیں اپنے اس عمل پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے، اور آئندہ کے لیے ایسے امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔

"عن ابن عمر، " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ‌أن ‌يصلى ‌في ‌سبعة مواطن: في المزبلة، والمجزرة، والمقبرة، وقارعة الطريق، وفي الحمام، وفي معاطن الإبل، وفوق ظهر بيت الله. "

(ابواب الصلاۃ، باب ما جاء فی کراہیۃ مایصلی الیہ وفیہ،ج2،ص177،ط:مصطفی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101647
تاریخ22-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں