بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماربل سے پکی قبریں بنانا اور ان پر قرآنی آیات اور دعائیں لکھنے کا حکم

سوال

ہمارے کچھ رشتہ دار ماربل کی پکی قبریں بناتے ہیں،کچھ ماربلوں پر قرآنی آیات اور دعائیں بھی لکھی ہوتی ہیں اور بعض ماربل سادہ ہوتے ہیں،کیا اس طرح کا کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ماربل یا کسی اور چیز  کے ذریعے قبروں کو اوپر سے پختہ کرنا جائز نہیں، اسی طرح ان ماربلوں پر قرآنی آیات اور دعائیں لکھنا جو قبر میں لگائے جاتے ہوں بے ادبی ہے ، لہذا کسی شخص کے لیے مذکورہ ناجائز کام میں تعاون  کرنا جائز نہیں۔ 

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌أن ‌يجصص ‌القبر وأن يبنى عليه وأن يقعد عليه"۔

(کتاب الجنائز، باب دفن المیت، ص:533، ج:1، ط:المکتب الإسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌وتكره ‌كتابة ‌القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش. اهـ"۔

(کتاب الطہارۃ، ص:179، ج:1، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101623
تاریخ22-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں