بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی دھونے سے چھینٹے کپڑوں پر لگ جائیں تو کپڑوں کی پاکی ناپاکی کا حکم

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک بندہ سروس ڈیگ چلاتا ہے جس میں مختلف گاڑیوں کو دھونا پڑھتا ہے تو کیا اس دھونے سے اس کے کپڑے ناپاک ہوتے یا نہیں؟ کیوں کہ  ان گاڑیوں پر کبھی کبھار نجاست بھی ہوتی ہے ۔اور کیا اس کے پاس جو بندہ کھڑا ہوتا ہے اس کو بھی چھینٹے آنے سے  اس کے کپڑے ناپاک ہوں گےیا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  جب تک  گاڑیوں  پر  نجاست  کا یقین  نہ  ہو، صرف  اس  شک  کی بنیاد  پر  کہ  گاڑیوں پر نجاست لگی ہوئی ہوگی تو ان گاڑیوں کے دھونے سے اور اس کی چھینٹے لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے، البتہ اگر یقین ہو کہ اس گاڑی پر نجاست لگی ہوئی ہے اور اس کو دھوتے وقت اس نجاست کا چھینٹوں کی وجہ سے کپڑوں وغیرہ پر  لگنے کا یقین ہو تو اس صورت میں کپڑے  ناپاک ہوں گے، باقی اگر یہ چھینٹے  بہت معمولی مقدار میں ہوں تو ان کپڑوں میں نماز ادا کی جاسکتی ہے،  اس وجہ سے نماز میں کوتاہی نہ کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و لو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر، و تمامه في الأشباه.

(قوله: و لو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا ‌فهو ‌طاهر ‌ما ‌لم ‌يستيقن."

(کتاب الطهارۃ، ص:151، ج:1، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم   

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101598
تاریخ21-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں