بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مَہْد نام رکھنا

سوال

نام Mahad "مہد"کے حوالے سے بتائیں، یہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

 واضح رہےکہ لفظ  ’’مہد ‘‘  (مَهْد) بچہ کا گہوارہ ( بچوں کا جھولا) ،  نرم وہم وار زمینوغیرہ معانی میں استعمال ہوتاہے، لہذا صورت ِ مسئولہ میں   مذکورہ معانی کے اعتبار سے مہد  نام  رکھنا درست ہے ،البتہ بہتریہ ہے کہ بچوں کا نام انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام پررکھاجائے ۔

 (القاموس الوحید، ص:1588، ط:ادارہ اسلامیات)

لسان العرب میں ہے:

" و المهد مهد الصبي و مهد الصبي موضعه الذي يهيأ له و يوطأ لينام فيه و في التنزيل: من كان في المهد صبيا و الجمع مهود و سهد مهد حسن إتباع و تمهيد الأمور تسويتها و إصلاحها."

(3/ 410،ط: دار صادر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101489
تاریخ20-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں