بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عمرہ کے لیے جانے والا قرنطینہ کے دن احرام میں گزارے گا؟

سوال

میں نے عمرہ کرنے جانا ہے،  لیکن کرونا کی وجہ سےہوٹل میں قرنطینہ کے لیے 3سے4 دن گزارنے ہوتے ہیں، تو کیا یہ سارا وقت احرام میں گزرے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اپنے ملک سے  عمرہ کی نیت کر کے جدہ ائیر پورٹ پر جاتا ہے تو ایسی صورت میں سائل کو جدہ میں اترنے سے قبل اپنے میقات سے  احرام کی نیت کرنی ہوگی اور قرنطینہ کے دنوں میں بھی احرام کی پابندیوں کا لحاظ کرنا ضروری ہوگا اور اگر سائل  اپنے ملک سے مدینہ منورہ ائیر پورٹ پر اترتا ہے تو پھر اس وقت احرام کی نیت کرنا لازمی نہیں ہوگا اور  مدینہ منورہ میں قرنطینہ کرتے وقت احرام کی پابندیاں بھی نہیں ہوں گی ، بلکہ اس کے بعد جب مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ کرے تب "بئر علی" سے احرام باندھنا ضروری ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"لا يجوز لأحد منهم أن يجاوز ميقاته إذا أراد الحج أو العمرة إلا محرما".

(كتاب الحج، فصل وأما بيان مكان الإحرام2/ 164، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101485
تاریخ20-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں