بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوہ کی رشتہ داروں سے مانگ مانگ کر جمع کی ہوئی رقم ترکہ شمار ہوگی؟

سوال

میری پھوپھی کے ترکہ سے  9750 روپے  ملے ہیں ، پھوپھی بیوہ بے اولاد تھی، رشتہ دار خرچ دیتے تھے ، اس کے علاوہ وہ رشتہ داروں  سے مانگ مانگ کر رقم  جمع کرتی  تھی،  ترکہ کی رقم مانگے ہوئے  پیسوں کی ہے، کیا یہ رقم میرے لیے حلال / جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر رشتہ دار  سائل کی پھوپھی کو  اس کے مانگنے پر رقم بطورِ امداد اور تعاون کے دیتے تھے تو یہ  جمع شدہ رقم مرحومہ کا ترکہ ہے اور مرحومہ کے ورثاء میں تقسیم ہوگا، ورثاء کے لیے اس رقم کا استعمال کرنا درست ہوگا۔

فيض الباری على صحيح البخاری میں ہے:

"في «القنية»: ‌المتبرع ‌لا ‌يرجع فيما تبرع به، فباب الرجوع لا يمشي في التبرعات۔"

(كتاب الهبة، باب هبة الواحد للجماعة: 4 / 58، ط: دار الكتب العلمية)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:

"المتبرع ‌لا ‌يرجع بما تبرع به على غيره۔"

(کتاب المداینات: 2 / 226، ط:دار المعرفة)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101484
تاریخ20-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں