بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کئی سالوں سے بیوی بلانے پر قریب نہیں آتی تب بھی نکاح برقرار ہے

سوال

زید جس کی عمر ساٹھ برس کی ہے اور وہ  دس بچوں کا  والد ہے، تاہم اس کی خواہش نفسانی ہنوز برقرار ہے،  جب کہ اس کی بیوی جو عمر میں اس سے تقریباً آٹھ  برس چھوٹی ہے، گزشتہ سولہ برسوں سے نہ صرف یہ کہ بلا کسی عذر شرعی کے وظیفۂ زوجیت ادا کرنے کو تیار نہیں ہے،  بلکہ متعدد بار زید کے بلانے کے باوجود اس کے  ساتھ ایک بستر پر سونے سے بھی انکاری ہے۔ ایسی صورت میں ان دونوں کا نکاح قائم رہنے کا کیا جواز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں شوہر کے طلاق  دیے بغیر یا خلع پر رضامند ہوئے بغیر صرف چند سال بیوی سے الگ رہنے اور حقوق زوجیت ادا نہ کرنے کی وجہ سے دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا، دونوں بدستور میاں ، بیوی ہیں۔ تاہم بیوی بغیر شرعی عذر کے شوہر کے قریب بلانے پر اس کے قریب نہ جانا گناہ گار ہے،  اسے چاہیے کہ  اس رویے کو ترک کرے اور توبہ کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و ركنه لفظ مخصوص."

(کتاب الطلاق :3/ 230،ط:سعید )

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101470
تاریخ20-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں