بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کفیل بالمال کے لیے کفالت پر اجرت لینے کا حکم

سوال

کفیل بالمال اجرت لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کفالت عقدِ تبرع ہے، یعنی کفیل بالمال مکفول عنہ کی طرف سے مکفول لہ  کے لیے جو ضمانت لیتا ہے وہ مکفول عنہ کے حق میں تبرع اور احسان ہوتا ہے، اس وجہ سے کفیل مکفول عنہ سے  اس ضمانت لینے پر اجرت نہیں لے سکتا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(منها) العقل ومنها البلوغ وإنهما من شرائط الانعقاد لهذا التصرف فلا تنعقد كفالة الصبي والمجنون لأنها عقد تبرع فلا تنعقد ممن ليس من أهل التبرع."

(کتاب الکفالۃ،فصل فی شرائط الکفالۃ،ج6،ص5،ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101433
تاریخ20-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں