بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معافی کی فضیلت

سوال

اگر مرد اپنی محبت کاالزام لگائے اور بعد میں اس عورت سے معافی بھی مانگے، کیا عورت کو سچے دل سے معاف کر دینا چاہیے،اور اسے اپنا لینا چاہیے نکاح میں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص نے عورت پر محبت کا جھوٹا الزام لگایا تھا،اور اب توبہ کرکے اس عورت سے معافی مانگ رہا ہے تو اس عورت کو معاف کردینا چاہیے،اور اس سے نکاح کرنے میں بھی شرعاً کوئی قباحت نہیں،تاہم عورت پر  اجنبی مرد کے ساتھ  ناجائز تعلقات سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

" وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ    "

ترجمہ:اور غصہ کے ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اوراللہ تعالی ایسے نیکو کاروں کو محبوب رکھتا ہے۔(بیان القرآن)

پاکیزہ عورتوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ کاارشاد ہے:

" وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ "        

ترجمہ:اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والی ہوں۔(بیان القرآن)

نوٹ: سائل کا سوال چوں کہ مبہم ہے،سوال کے ایک مطلب کے مطابق جواب لکھا گیا ہے،اگر سائل کا مطلب مذکورہ سوال سے کچھ اور ہو تو وضاحت کرکے دوبارہ معلوم کرے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101425
تاریخ20-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں