بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیسوں والا ہار پہننے کا حکم

سوال

پیسوں والا ہار پہننا جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں پیسوں کا ہار دولت کی بےجا نمائش اور تفاخر و ریاء کے خدشے کے پیشِ نظر ایک قابلِ ترک رسم ہے، لہذا اس سے بچا جائے۔

خیر الفتاوی میں ہے:

’’دولہا، اسی طرح حجاج کرام کو نوٹوں وغیرہ کا ہار  پہنانا محض ایک رسم ہے، اس سے احتراز لازم ہے ...‘‘

(کتاب النکاح، متفرقاتِ نکاح، ج۴، ص۵۸۷، مکتبہ امدادیہ ملتان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101403
تاریخ20-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں