بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں تمہیں طلاق دے دوں گا

سوال

ایک مرد کا اپنے سسرال والوں کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے اور اس نے اپنی بیوی سے کہا ہے اگر تم اپنے ماں باپ کے گھر گئی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا اس کا شرعی حکم  کیاہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی سے کہا کہ” اگر تم اپنے ماں باپ   کے گھر گئی  تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا“  یہ مستقبل میں طلاق  دینے کی دھمکی ہے ، جب تک طلاق  نہیں دے  گا، اس وقت تک  اس  جملے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی  ۔

البحرالرائق میں ہے:

" وليس منه أطلقك بصيغة المضارع۔"

(کتاب الطلاق ، باب الفاظ الطلاق 3/271ط: دار الكتاب الإسلامي)

ردالمحتار میں ہے:

"أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا ۔"

(کتاب العتق ، فرع قال أحد شريكين للآخر بعت منك نصيبي3/669ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101302
تاریخ17-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں