بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلی پالنے اور اس کی افزائشِ نسل کا حکم

سوال

بلی کو گھر میں پالنے اور اس کی افزائش نسل پر پیسے لگانے کے حوالے سے فتوی مطلوب ہے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں بلی کو گھر میں پالنا جائز ہے بشرطیکہ اس کی خوراک کا مناسب انتظام کیا جائے ، اسی طرح بلی کی خرید و فروخت کرنا اور اس کی دیکھ بھال کر کے اس کی نسل کی افزائش میں بھی شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

 افزائشِ نسل پر پیسے لگانے  اور سرمایہ کاری کرنے کے متعلق فتویٰ حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے طریقہ کی تفصیل لکھ کر دوبارہ ارسال کریں۔

الدر المختار میں ہے:

"(و صحّ بيع الكلب) و لو عقورًا (و الفهد) و الفيل و القرد (و السباع) بسائر أنواعها حتى الهرة و كذا الطيور."

و في الشامية: 

"(قوله: حتى الهرة)؛ لأنها تصطاد الفأر و الهوام المؤذية فهي منتفع بها، فتح."

(كتاب البيوع، باب المتفرقات من أبوابها، 5/ 226، ط سعيد)

و فيه أيضاً:

"و يجوز بيع البازي و الشاهين و الصقر و أمثالها و الهرة، و يضمن متلفها."

(‌‌‌‌باب البيع الفاسد، 5/ 68، أيضاً)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101297
تاریخ17-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں