بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھریلو قیمتی سامان پر زکاۃ کا حکم

سوال

موجودہ دور میں تقریباً ہر گھر میں سامان آرائش موجود ہوتاہے  جیسے صوفہ سیٹ ، ڈنر سیٹ، عورتوں ، مردوں ،بچوں کے قیمتی کپڑے بہت سی دنیا داری کی  چیزیں جو سونے چاندی کی مالیت سے بھی زیادہ بن جاتی ہیں اس پر زکوٰۃ واجب ہے کہ نہیں؟

جواب

زکاۃ واجب ہونے کے لیے مال کا نامی  (حقیقتاً یا حکماً بڑھنے والا مال) ہونا ضروری ہے، اور مالِ نامی سے مراد سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور سائمہ جانور ہیں، چوں کہ گھر کی  مستعمل یا غیرمستعمل اشیاءخواہ ان کی کتنی ہی مالیت ہو  مالِ نامی نہیں ہیں؛ لہٰذا ان پر شرعا  زکاۃ واجب نہیں ہے۔

حاشية رد المختار على الدر المختار - (2 / 262):
"وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية أيضاً". فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101276
تاریخ17-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں