نسبی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائز ہے
سوال
میرے بڑے بھائی نے ممانی کا دودھ پیا ہوا ہے اور ممانی کی جس بیٹی کے ساتھ دودھ پیا ہوا ہے، گھر والے ممانی کی اس بیٹی کی شادی مجھ سے کروانا چاہتے ہیں تو کیا میرا ممانی کی مذکورہ بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کا ممانی کی مذکورہ بیٹی سے نکاح جائز ہے، کیوں کہ جب سائل کے بھائی نے اپنی ممانی کادودھ پیا ہے تو اس کا بھائی ممانی کا رضاعی بیٹا اور ممانی کی اولاد اس کے رضاعی بھائی بہن ہوئے، سائل کے بھائی کے دودھ پینے کی وجہ سے سائل کا ممانی یا اس کی اولاد سے رضاعی رشتہ نہیں بنا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا، وبهما وهو ظاهر."
(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:3، ص:217، ط:سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

