بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سالی سے پردہ ہے یانہیں؟

سوال

اگربیوی مرجائے تو سالی سے پردہ کرنا ضروری ہے یانہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں محرم وہ  ہوتاہے جس کے ساتھ ہمیشہ کے  لیے نکاح  حرام ہو،  سالی سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام نہیں ہے ، اس لیے   سالی اجنبیہ کے حکم میں    ہے خواہ بیوی زندہ ہو یافوت ہوچکی ہو ،ہر حال میں ان سے پردہ ضروری ہے ۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"و قوله تعالى: وأحل لكم ما وراء ذلكم أي ما عدا من ذكرن من المحارم، هن لكم حلال."

(سورۃ النساء آیت 24 ۔۔۔ 2/226ط: دار الكتب العلمية)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"المحرم من النساء التي يجوز له النظر إليها والمسافرة معها كل من حرم نكاحها على التأبيد بسبب مباح لحرمتها فخرجت بالتأبيد أخت الزوجة وعمتها وخالتها."

(کتاب المناسک 5/1744ط: دار الفكر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال :سالی سے پردہ کرنا چاہیے یانہیں اور کچھ حد مقرر ہے یانہیں ؟

جواب :جی ہاں پر دہ کرناچاہیے ، وہ اجنبیہ ہے ، اس کی بہن کو طلاق دینے اور عدت گزرنے پر ، یااس کے انتقال پر اس سے نکاح درست ہے ، اس سے خلوت بھی منع ہے ، ہنسی مذاق اور بے پردہ سامنے آنا بھی منع ہے ۔"

باب الحجاب 19/ 207 ط:ادارہ الفاروق)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101231
تاریخ16-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں