بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل کے ذریعہ دوسرے ملک پیسے بھیجنے کی صورت میں بینک کی طرف سے ملنے والے کیش بیک کا حکم

سوال

 ایک شخص سعودی عرب سے پاکستان پیسا بھیجتا هے، بینک سے موبائل کے ذریعے سے، تو وه جتنا پیسا بھیجتا هے، اسے پانچ   پرسنٹ واپس ملتا ہے کیش بیک کی صورت میں، مثال کے طور پر اگر ایک هزار ریال بیجھے تواسےپچاس ریال واپس ملتےہے۔کیا یه پیسے لینا جائز ہے؟ یہ آفربینک کی طرف سے محدود مدت کے لیے ہے۔

جواب

صورت مسئولہ  میں مذکورہ شخص کے لیےکیش بیک کی صورت میں ملنے والے پیسے لینا  جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ  یہ  رعایت   بینک کی طرف سے مذکورہ شخص کو اس قرض کی وجہ سے مل رہی ہے،  جو اس نے اکاؤنٹ کی صورت میں  بینک میں رکھوایا ہے اورہر وہ  فائدہ جو  قرض کی وجہ سے حاصل ہو وہ  سود کے زمرے میں آتا ہے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن..."

(کتاب البیوع،باب المرابحة والتولية،مطلب کل قرض جر نفعا،5 /166، ط: سعید)

اعلاء السنن میں ہے: 

" قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة  أو هدیة فأسلف علی ذلک، إن أخذ الزیادة علی ذلک ربا ..."

( کتاب الحوالة، باب کل قرض جر منفعة فهو ربا،14 /513، ط: إدارة القرآن)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101217
تاریخ16-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں