بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹونٹی کے نیچے ہاتھ دھونے سے تین مرتبہ کی سنت اداہوگی یانہیں؟

سوال

کیا ٹونٹی سے وضو کرتے وقت ہاتھ کو ٹونٹی کے نیچے لاکر ہاتھ کو ہٹائے بغیر ملنے سے تین مرتبہ دھونےکی سنت پر عمل ہوجائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ تثلیث کامقصد ہاتھ دھونے میں مبالغہ کرناہے،اور ٹونٹی کے نیچے ہاتھ ہٹائے بغیر مسلسل دھونے سے مبالغہ حاصل ہوتاہے ،اس لیے تین مرتبہ دھونے کی سنت اداہوجائے گی،لیکن اس بات کاخیال رہے کہ اس طرح دھونے سےاسراف یعنی ضرورت سے زیادہ پانی کااستعمال لازم نہ آئے، اس لئے کہ وضو میں اسراف مکروہ ہے۔

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"انغمس" المغتسل "في الماء الجاري أو" انغمس في "ما" هو "في حكمه" أي الجاري كالعشر في العشر "ومكث" منغمسا قدر الوضوء والغسل أو في المطر كذلك ولو للوضوء فقط "فقد أكمل السنة" لحصول المبالغة بذلك كالتثليث ولو للوضوء" أي لو مكث منغمسا أو في المطر لأجل الوضوء قدر فقط فإنه يكون آتيا بكمال السنة۔"

[الطحطاوي ,حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: 105]

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: والإسراف) أي بأن يستعمل منه فوق الحاجة الشرعية، لما أخرج ابن ماجه وغيره عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مر بسعد وهو يتوضأ فقال: ما هذا السرف؟ فقال: أفي الوضوء إسراف؟ فقال: نعم، وإن كنت على نهر جار"

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 132))

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101215
تاریخ16-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں