بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر دولہا اور دلہن والوں کا ایک دوسرے سے تحائف لینا کیسا ہے ؟

سوال

شادی کےموقع پردلہن والےمہرکےعلاوہ دولہاکےگھروالوں سے دلہن کےکپڑےمیکپ اورہاروغیرہ کےلئےپیسےلیتےہیں،اگر غریب ہو تو 30000روپےاوراگردولہاوالےامیرہوں تو 60000 روپے کےقریب لیتےہیں، اسی طرح دولہاوالےبھی دلہن والوں سےدلہا کےکپڑوں کیلئےپیسےلیتےہیں تو کیا یہ لینا جائز ہے ؟

جواب

دلہن کے کپڑے اور میکپ کے لیے پیسے لینا اور اس سے کپڑے اور میکپ کے سامان خرید کر دلہن کو دینا جائز ہے،البتہ دلہا کے کپڑے وغیرہ کے لیے پیسے لینا جائز نہیں ہے ،اگر لڑکی والے خوشی سے دے دیں ٗ تو منع نہیں ہے،لیکن اس کو لازمی رسم بنانا صحیح نہیں ہے۔

مسند امام احمد میں ہے :

"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه‘‘.

(مسند الکوفیین، حدیث عم أبي حرة الرقاشي، رقم الحدیث: 20714،ج:5،ص:72، ط:مؤسس قرطبة القاهرة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101120
تاریخ16-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں