بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیث موضوع کو حدیث کیوں کہا جاتا ہے ؟

سوال

حدیث موضوع جب حدیث ہی نہیں تو اسے عام طور پر حدیث کیوں کہاجاتا ہے؟

جواب

روایت کو گھڑنے والا چونکہ اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتا ہے ، اور اسے حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس بنا پر اس کی من گھڑت روایت سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ من گھڑت حدیث ہے ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں، بلکہ ایک من گھڑت بات ہے۔

 فتح المغيث للسخاوي (المتوفى: 902هـ)  ميں ہے: 

"ثم إن وراء هذا النزاع في إدراج الموضوع في أنواع الحديث: لكونه ليس بحديث، ولكن قد أجيب بإرادة القدر المشترك وهو ما يحدّث به، أو بالنظر لما في زعم واضعه."

(فتح المغیث، الموضوع، (1/ 310 و311)، ط/ مكتبة السنة - مصر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101112
تاریخ15-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں