بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو میں اعضاء کے تین مرتبہ دھونے کا حکم

سوال

اعضاء کا تین بار دھونا وضو میں، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

وضو میں اعضاء کو تین  تین مرتبہ دھونا سنت ہے۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) : التثليث في الغسل، وهو أن يغسل أعضاء الوضوء ثلاثا ثلاثا؛ لما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «توضأ مرة مرة وقال: هذا وضوء لا يقبل الله الصلاة إلا به، وتوضأ مرتين مرتين وقال: هذا وضوء من يضاعف الله له الأجر مرتين، وتوضأ ثلاثا ثلاثا وقال: هذا وضوئي، ووضوء الأنبياء من قبلي فمن زاد على هذا، أو نقص فقد تعدى وظلم۔"

(کتاب الطهارۃ، فصل فی سنن الوضوء، ص:22، ج:1، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتثليث الغسل) المستوعب"۔

(کتاب الطهارۃ، سنن الوضوء، ص:118، ج:1، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307101098
تاریخ15-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں