وراثت کی تقسیم
سوال
فوت شدہ کے ورثاء میں ایک بیوہ،دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ،مرحوم کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ (تجہیزو تکفین کے اخراجات)ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے بعد،اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے تہائی حصہ میں سے اسے نا فذ کرنے کے بعد باقی تمام ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو48حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو 6حصے،ہر ایک بیٹے کو 14حصے اور ہر ایک بیٹی کو 7حصے ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
مسئلہ: 48/6۔۔مرحوم
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||
| 6 | 14 | 14 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو12.50 فیصد،ہر ایک بیٹے کو29.166 فیصد اور ہر ایک بیٹی کو14.583 فیصد ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

