بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش اکاؤنٹ استعمال کرنے کا حکم

سوال

اگر ایک شخص جاز کیش(JAZZ CASH) اکاؤنٹ استعمال کرتا ہے اور منفعت(فری منٹس،فری ایس ایم ایس اور کیش بیک وغیرہ) استعمال کرتا ہےتو کیا یہ جائز ہے؟یعنی نفس اکاؤنٹ بنانا جائزہے؟اور اس کے ذریعہ پیسے بھجوانا،جمع کرانا،بل جمع کرانا وغیرہ جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص کو جاز  کیش موبائل اکاؤنٹ میں   مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر کمپنی کی طرف سے مختلف سہولیات (مثلاً:فری  منٹس،فری ایس ایم ایس اور کیش بیک وغیرہ) فراہم کی جاتی ہوں  تو چونکہ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا درحقیقت  قرض ہے، اور  قرض دینابذات خود جائز ہے، لیکن کمپنی اس پر جو  مشروط منافع دیتی  ہے، یہ شرعاً ناجائز ہے، اس لیے کہ قرض پر شرط لگاکر نفع  کے لین دین  کو حدیث شریف  میں  سود قرار دیا گیاہے اور  چونکہ اس صورت میں  مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کےساتھ مشروط ہے، اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا ہی جائز نہیں ، اگر اکاؤنٹ کھول لیا ہو تو بھی کمپنی کی طرف سے ملنے والی مشروط سہولیات (فری  منٹس،فری ایس ایم ایس اور کیش بیک وغیرہ) کو استعمال کرنا جائز نہیں ، صرف اصل رقم(  جوجمع کرائی  گئی ہے)کے بقدر استفادہ کرسکتے ہیں،مذکورہ سودی اکاؤنٹ کوختم کرناضروی  ہے۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعاً حرام".

 ( كتاب البيوع، فصل في القرض (5/ 166) ط: سعيد)

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100990
تاریخ15-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں