بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا جسم پر پیشاب کےقطرے لگنے کی صورت میں غسل ضروری ہے

سوال

اگر جسم پر پیشاب کے قطرے گر جائیں تو کیا غسل کے بغیر نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟

جواب

اگر جسم یا کپڑے کے کسی حصہ پر  پیشاب لگ جائے تو جسم اور کپڑے کے صرف  اس حصہ کو  پاک کرنا ضروری ہےاور اس حصہ کو پاک کرنے کے بعد نماز پڑھ سکتے ہیں ،غسل کرنا ضروری نہیں۔

اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:

"(ومن أصابه من النجاسة المغلظة كالدم والبول) من غير مأكول اللحم ولومن صغير لم يطعم (والغائط والخمر) وخرء الطير لايزرق في الهواء كذجاج وبط وإوز (مقدار الدرهم فما دونه جازت الصلاة معه) لأن القليل لايمكن التحرز عنه؛ فيجعل عفواً، وقدرناه بقدر الدرهم أخذاً عن موضع الاستنجاء (فإن زاد) عن الدرهم (لم تجز) الصلاة."

(اللباب في شرح الكتاب: كتاب الطهارة، باب الأنجاس 1/ 51، 52 ط :  المكتبة العلمية، بيروت)

وفي الدر المختار:

"(ويجب) أي: يفرض غسله (إن جاوز المخرج نجس) مائع."

 (رد المحتار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فصل الاستنجاء 1/ 338ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100965
تاریخ15-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں