بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’تمہاری داڑھی نہ آئے اللہ کرے ‘‘ کہنے سے نکاح کا حکم

سوال

ابھی تک میری داڑھی نہیں آئی ہے اور بیوی نے       کہا ہے کہ’’ تمہاری داڑھی نہ آئے اللہ کرے‘‘، کیا اس سے  نکاح ٹوٹ جائے گا یا نہیں َ؟

جواب

واضح رہے کہ داڑھی رکھنا امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی اور تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ سنت اور شعائرِ  اسلام میں سے ہے، چنانچہ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ، اور  داڑھی کا منڈانا  یا ایک مشت سے کم داڑھی  رکھنا بالاجماع حرام ہے، داڑھی منڈانے والا یا ایک مشت سے کم رکھنے والا اس عظیم الشان سنت کے ترک کرنے کی وجہ سے فاسق ہو جاتا ہے، حضورِ  پاک ﷺ  کی کسی بھی سنت کا مذاق اڑانا یا اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرنا باعثِ کفر ہے، جب کہ داڑھی تو حضور  ﷺ  کی  بہت  بڑی سنت ہے جس کو  حضور ﷺ نے کفار و مشرکین کی مخالفت کی علامت قرار دیا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  سائل کی بیوی کا سائل سے یہ کہنا کہ’’تمہار ی  داڑھی نہ آئے  اللہ کرے ‘‘ یہ جملہ نامناسب ہے ،تاہم چوں کہ  سائل کی بیوی   نے   داڑھی کا انکار نہیں کیا ہےاور نہ ہی اس کی توہین کی ہے ، لہذا اس جملے سے وہ اسلام کے دائرے سے نہیں نکلی اور نہ ہی اس کا نکاح ٹوٹا ،البتہ آئندہ اس طرح کی باتوں سے اجتناب کرے ۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :

"(و) اعلم أنه (لايفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن."

(رد المحتار، كتاب الجهاد، باب المرتد 4/ 229 ط: سعيد)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100928
تاریخ14-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں