بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سورۃ الملک کی رات میں تلاوت سے مراد بعد از مغرب یا عشاء ہے؟

سوال

سورہ ملک رات میں پڑھیں ؟رات سے کیامراد مغرب کےبعد یاعشاءکےبعد؟

جواب

حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سونے سے پہلے الم سجدہ اور سورۂ ملک پڑھ کر سوتے تھے اورسونے کا یہ عمل عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ہی ہوتا تھا،لہٰذا سوتے وقت سورۂ ملک پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ 

حدیث شریف میں ہے:

"وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا ينام حتى يقرأ : ( آلم تنزيل ) و ( تبارك الذي بيده الملك ) ۔رواه أحمد والترمذي والدارمي ۔"

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب فضائل قرآن،الفصل الثانی، الرقم :2048، ج:1،ص:190،ط:رحمانیہ)

ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سویا نہیں کرتے تھےیہاں تک کہ الم تنزیل اور تبارک الذی بیدہ الملک نہ پڑھ لیتے۔"

(مظاہرِ حق، ج:2،ص:453،ط:مكتبة العلم)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100759
تاریخ12-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں