بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق رجعی اور دو طلاق بائن میں عدت کانفقہ کس کے ذمے لازم ہے؟

سوال

طلاق رجعی(ایک طلاق) کے بعد عورت کا نان ونفقہ کس کے ذمہ ہے؟ طلاق بائن(دو طلاق) کی عدت کے دوران عورت کا خرچہ کس کے ذمہ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خواہ  ایک طلاق رجعی ہو یا دوطلاق بائن ہو ،بہردو صورت  عدت کے دوران مطلقہ   عورت کا نفقہ اس کے شوہر کے ذمے لازم  ہے ۔

ہندیہ میں ہے:

" المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان۔"

(کتاب الطلاق ،الفصل الثالث في نفقة المعتدة1/557ط:دارالفکر)

الدرالمختار میں ہے:

"(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية۔۔۔ النفقة والسكنى والكسوة) إن طالت المدة،۔"

(کتاب الطلاق ، باب النفقۃ 3/609ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100750
تاریخ12-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں