بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑكا لڑكی کا گواہوں کے بغیر ایجاب و قبول

سوال

اگر ایک لڑکی اور لڑکا کسی مولوی اور گواہ کے بغیر یہ کہیں کہ مجھے تم سے نکاح قبول ہے، اور لڑکا اس سے تین بار کہے کہ تمہیں مجھ سے نکاح قبول ہے اور لڑکی بھی تین بار کہے کہ قبول، تو کیا انکا نکاح ہو جاتا ہے؟اور لڑکی اگر کہیں اور شادی کرے تو اس مرد سے طلاق لینی پڑتی ہے،یا اس کو نکاح تصور کیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کےلیےشرعی گواہوں کی موجودگی  میں ایجاب و قبول کی مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے اس کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں شرعی گواہی  کےبغیرصرف لڑکا لڑکی کے ایجاب و قبول سے نکاح منعقد نہیں ہوا،لہذا صورت مسؤلہ میں لڑکی  کہیں اور شادی  کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) شرط (حضور) شاهدين  (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)۔"

(کتاب النکاح، ص/22، ج/3، ط/سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100717
تاریخ12-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں