بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر میٹر کے سرکاری بجلی کا استعمال ناجائز

سوال

گھروں میں سرکاری بجلی کا بغیر میٹر کے استعمال کرنا کیسا ہے ؟

جواب

بجلی کی چوری بھی چوری ہے؛  لہذا میٹر لگواکر  قانونی طریقہ پر بجلی استعمال کرنے کی سہولت کے باوجود  بغیر میٹر کے گھروں میں سرکاری  بجلی کا استعمال شرعاً ناجائز اور  حرام ہے۔

مولانا محمد یوسف  لدھیانوی  رحمہ اللہ  تحریر فرماتے ہیں:

"سرکاری ادارے پوری قوم کی ملکیت ہیں، اور ان کی چوری بھی اسی طرح جرم ہے جس طرح کہ کسی ایک فرد کی  چوری حرام ہے، بلکہ سرکاری اداروں کی چوری کسی خاص فرد کی چوری سے بھی زیادہ سنگین ہے، کیونکہ ایک فرد سے تو آدمی معاف بھی کراسکتا ہے لیکن آٹھ کروڑ افراد میں سے کس کس آدمی سے معاف کراتا پھرے گا؟ جو لوگ بغیر میٹر کے بجلی کا استعمال کرتے ہیں وہ پوری قوم کے چور ہیں۔"

(آپ کے مسائل اور ان کا حل ، کھانے پینے کے بارے میں شرعی احکام،  ج:8، ص: 393، ط:مکتبہ لدھیانوی)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لايجوز لأحد ‌أن ‌يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقدمة،‌‌ المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص27، ط: نور محمد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100672
تاریخ12-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں