بینک کو دوکان کرایہ پر دینا جازئز نہیں
سوال
حبیب بینک کو دوکان کرایہ پر دینا کیسا ہے؟
جواب
بینک ایک سودی ادارہ ہے، جہاں سودی لین دین ہوتاہے، جو گناہِ کبیرہ ہے، ایسے سودی ادارےکواپنی جائیداد کرایہ پردینا گناہ کے کام میں معاونت ہے جوکہ شرعاً ناجائزہے، اورجوکرایہ بینک ادا کرے گا،ظاہرہے وہ اپنی سودی آمدنی سے ادا کرے گاجو کہ جائز نہیں۔
لما قال الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی:
"وبیع الامرد ممن یعصی بہ واجارۃ البیت ممن یبیع فیہ الخمر او یتخذہ کنیسۃ او بیت نار وامثالھا فکلہ مکروہ تحریما بشرط ان یعلم بہ البائع والمؤجر، من دون تصریح بہ باللسان، فانہ ان لم یعلم کان معذورا وان علم و صرح کان داخلا فی الاعانۃ المحرمۃ"۔
(فقہ البیوع،ج1، ص186، مکتبہ معارف القرآن، کراچی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

