بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اورحان نام رکھنے کا حکم

سوال

اورحان نام کا کیا مطلب ہے، کیا یہ اسلامی نام ہے؟ میں اپنے لڑکے کا نام محمد اورحان خان رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ درست ہے؟

جواب

مذکورہ لفظ "اورحان" عربی زبان کا لفظ نہیں،اور نہ ہی دوسری لغت کی کتابوں میں  مل سکا۔ لہٰذا یہ نام رکھنا درست نہیں۔ ناموں کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام  علیہم السلام، صحابہ کرام  علیہم الرضوان ، یا اچھے معنی والے عربی نام رکھے جائیں۔

أبو داؤد شریف میں ہے:

"حَدَّثَنَا ‌عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ: أَنَا، (ح)، وَنَا ‌مُسَدَّدٌ نَا ‌هُشَيْمٌ ، عَنْ ‌دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ‌عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا ، عَنْ ‌أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ ‌تُدْعَوْنَ ‌يَوْمَ ‌الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ."

(سنن أبي داود، (2/335)، ‌‌بَابٌ فِي تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ ،كِتَابِ الْأَدَبِ، ط: رحمانیہ)

عمدۃ القاری میں ہے:

"وروى ابْن أبي شيبَة من مُرْسل عُرْوَة: كَانَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذا سمع الإسم الْقَبِيح حوله إِلَى مَا هُوَ أحسن مِنْهُ. وَفِي الحَدِيث: إِنَّكُم تدعون يَوْم الْقِيَامَة بأسمائكم وَأَسْمَاء أبائكم، ‌فَأحْسنُوا ‌أسماءكم. وَقَالَ الطَّبَرِيّ: لَا يَنْبَغِي لأحد أَن يُسمى باسم قَبِيح الْمَعْنى وَلَا باسم مَعْنَاهُ التَّزْكِيَة والمدح وَنَحْوه، وَلَا باسم مَعْنَاهُ الذَّم والسب، بل الَّذِي يَنْبَغِي أَن يُسمى بِهِ مَا كَانَ حَقًا وصدقاً."

(«عمدة القاري شرح صحيح البخاري» ،كتاب الأدب،باب تحويل الإسم إلى إسم أحسن منه ،(22/ 208)،الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100583
تاریخ10-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں