بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساس سے دبرمیں وطی کرنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں؟

سوال

زید نے اپنی ساس کے ساتھ دبر میں زنا کیا ہے، (غیر فرج میں) تو کیا اس عمل سے اس پر بیوی حرام ہو گئی ہے یا کچھ گنجائش باقی ہے؟

جواب

یہ   نہایت قبیح  ،  شریعت اور انسانیت سے گرا ہوا  فعل ہے، دونوں کوسچے دل سے توبہ کرنی چاہئے۔ تاہم اس سے زید  پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوئی۔ آئندہ دونوں ایک دوسرے سے احتیاط کریں، تنہائی میں بیٹھنے ، میل جول سےاور ایک دوسرے کو چھونے سے احتراز کریں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و كذا لو وطئ في دبرها لاتثبت الحرمة، كذا في التبيين. و هو الأصح هكذا في المحيط. و عليه الفتوى هكذا في جواهر الأخلاطي."

(الفتاوى الهندية: كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،  القسم الثاني المحرمات بالصهرية  (1/ 275)، ط. رشيديه)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144307100574
تاریخ09-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں