ساس سے دبرمیں وطی کرنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں؟
سوال
زید نے اپنی ساس کے ساتھ دبر میں زنا کیا ہے، (غیر فرج میں) تو کیا اس عمل سے اس پر بیوی حرام ہو گئی ہے یا کچھ گنجائش باقی ہے؟
جواب
یہ نہایت قبیح ، شریعت اور انسانیت سے گرا ہوا فعل ہے، دونوں کوسچے دل سے توبہ کرنی چاہئے۔ تاہم اس سے زید پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوئی۔ آئندہ دونوں ایک دوسرے سے احتیاط کریں، تنہائی میں بیٹھنے ، میل جول سےاور ایک دوسرے کو چھونے سے احتراز کریں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و كذا لو وطئ في دبرها لاتثبت الحرمة، كذا في التبيين. و هو الأصح هكذا في المحيط. و عليه الفتوى هكذا في جواهر الأخلاطي."
(الفتاوى الهندية: كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية (1/ 275)، ط. رشيديه)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

