چار بھائیوں اور سات بہنوں میں میراث کی تقسیم
سوال
چار بھائیوں اور سات بہنوں میں میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں چار بھائیوں اور سات بہنوں میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد اوراگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 15 حصوں میں تقسیم کرکے ہر بھائی کو 2 حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔
تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہے۔
میت: 15
|
بھائی |
بھائی | بھائی | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
1 |
یعنی 100 روپے میں سے ہر بھائی کو 13.333روپے اور ہر بہن کو 6.666روپے ملیں گے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

