بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار بھائیوں اور سات بہنوں میں میراث کی تقسیم

سوال

چار بھائیوں اور سات بہنوں میں میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  چار بھائیوں اور سات بہنوں میں  ترکہ کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ  ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم  کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد  اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد اوراگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعد   باقی کل ترکہ  منقولہ وغیر منقولہ کو 15 حصوں میں تقسیم کرکے ہر بھائی کو 2 حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔

تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہے۔

میت: 15

 بھائی 

بھائی بھائی  بھائی بہن بہن بہن بہن بہن بہن بہن
2 2 2 2 1 1 1 1 1 1

1

یعنی 100 روپے میں سے  ہر بھائی کو 13.333روپے اور ہر بہن کو 6.666روپے  ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100555
تاریخ09-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں