بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بکری کے بچے کا حصول / بکروں کو خصی کرنے کا حکم

سوال

بکریوں میں آج کل ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بچے حاصل  کیے جارہے ہیں، میرے پاس بھی گھر میں چند بکریاں موجود ہیں، اور میں چاہتا ہوں ان بکریوں کو ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے سے حاملہ کرادوں،  لیکن اس عمل سے پہلے میں آپ سے رائے لینا چاہتا ہوں  کہ یہ عمل کرانا ہمارے دین اسلام میں جائز ہے یا ناجائز ہے؟

بکروں کو خصی کرانا چاہتا ہوں جوکہ عید قربان کے  لیے رکھے ہوئے ہیں، اس معاملے میں بھی رہنمائی فرمائیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بکری کا بچہ حاصل کرنا جائز ہے،  بہتر نہیں ہے۔

جانور کو خصی کرنا جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، البتہ اس عمل کے دوران جانور کو کم سے کم تکلیف ہو، نیز حضور صلی علیہ وسلم نے خصی جانور کی قربانی فرمائی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) جاز (خصاء البهائم) ‌حتى ‌الهرة... وقيدوه بالمنفعة وإلا فحرام۔"

(‌‌‌‌كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 6/ 388، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"و المتولد بين الأهلي، و الوحشي يتبع الأم."

(‌‌كتاب الأضحية: 6/ 322، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"و قد صح أنه عليه الصلاة و السلام "ضحى بكبشين أملحين موجوءين" الأملح الذي فيه ملحة … والموجوء المخصي من الوجء وهو أن يضرب عروق الخصية بشيء۔"

(كتاب الأضحية ، الأضحية بالجماء: 8/ 176، ط: سعید) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100532
تاریخ09-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں