بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاحق کا بنا کرنے کی صورت میں امام کے ساتھ شامل ہوتے وقت تکبیر کہنے کا حکم

سوال

لاحق بنا  کرنے کی صورت میں باقی نماز پوری کرنے کے لیے جب امام کے   ساتھ  شامل ہوگا تو   کیا تکبیر کہے گا؟

جواب

لاحق چوں کہ حکمًاامام کی اقتدا  ہی میں  ہوتا ہے،اس لیے ایک یا چند رکعات نکل جانے کے بعد جب دوبارہ شریک ہوگا تو پہلی تکبیرِ تحریمہ ہی کافی ہوگی،دوبارہ امام کے ساتھ شامل ہوتے وقت  تکبیر نہیں کہے گا۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"واللاحق بأن تحريمته على تحريمة الإمام حقيقة لالتزامه متابعته وهو الذي أدرك أول الصلاة وفاته من الآخر بسبب النوم أو الحدث، وكذا بأن أداءه فيما يقضيه على أداء الإمام تقديرا؛ لأنه التزم متابعته في أول الصلاة بالتحريمة فتثبت الشركة بينهما ابتداء فيبقى حكم تلك الشركة ما لم تنته الأفعال؛ لأن التحريمة لا تراد لذاتها بل للأفعال فما بقي شيء من أفعال الصلاة تبقى الشركة على حالها فصار اللاحق فيما يقضي كأنه خلف الإمام تقديرا ولهذا لا يقرأ ولا يلزمه السجود بسهوه....."

(كتاب الصلاة،باب الإمامة والحدث في الصلاة،1/ 138،ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100514
تاریخ09-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں