بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوکان میں مال تجارت کی زکاۃ کا حکم اور زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ

سوال

دوکان میں سامان(آٹو پارٹس یعنی گاڑیوں کا سامان،جنریٹر،بلپ وغیرہ)پڑا رہتاہے،کبھی کم ہوتاہے ،کبھی زیادہ ہوتاہے اور کبھی ختم ہوجاتاہے،جس کا صحیح پتہ نہیں چلتاہے،مذکورہ حالت میں زکاۃ کی کیا ترتیب ہوگا؟سال کب سے شروع کرنا پڑے گا؟

جواب

دکان میں مال کی زکوۃ اداکرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن آپ صاحبِ نصاب ہوئے تھے،  چاند کی وہ تاریخ نوٹ کرلیں، اور اگر صاحبِ نصاب ہوئے عرصہ گزرگیا ہو اور آپ کو اندازا نہ ہو کہ آپ چاند کی کس تاریخ کو صاحبِ نصاب ہوئے تھے، تو اندازے سے ایک تاریخ مقرر کرلیں ( مثلاً: یکم رمضان المبارک طے کرلیں کہ یہ آپ کی زکاۃ کا سال مکمل ہونے کا دن ہے)  پھر ہر سال اس دن اپنے دیگر  قابلِ زکاۃ  اثاثوں کے ساتھ  پوری دکان کے قابلِ فروخت  سامان کا جائزہ لے کر مارکیٹ میں  قیمتِ فروخت کے حساب سے اس کی مالیت کی تعیین کریں، اس میں سے اپنے اوپر واجب الادا اخراجات  مثلاً جو ادائیگیاں باقی ہیں یا دیگر قرض وغیرہ منہا کریں،  اور اس کے بعد جتنی مالیت بچے اس کا چالیسواں حصہ یعنی  ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کردیں۔

تاہم اگر پوری کوشش کے باوجود  کسی وجہ سے دکان کا  مکمل حساب کرنا ممکن  نہ ہوتو  اندازا  لگاکر اس میں  کچھ اضافہ کرکے زکاۃ  ادا کریں تاکہ زکاۃ واجب مقدار سے  کم ادا نہ ہو۔

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100470
تاریخ09-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں