بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بائیک اسکیم میں جوا پائے جانے کی وجہ سے بائیک خریدنے کا حکم

سوال

اگر موٹرسائیکل کی قیمت 60000 ہزار ہو ، ہر مہینے 3 ہزار دینا پڑتا ہے،20 ماہ میں قسطیں ختم ہوجاتی ہیں، لیکن ہر مہینے قرعہ اندازی ہوتی ہے، اگر قرعہ اندازی میں نام نکل جائے ، پھر مزید  قسطیں نہیں دینی پڑتی، اگر میرا  نام تیسرےمہینے کی قرعہ اندازی میں نکل جائے تو پھر مجھے مزیدقسطیں نہیں دینی پڑے گی اور مجھے 9 ہزار روپے میں موٹرسائیکل مل جائے گی، اگر میرا نام 20 ماہ تک قرعہ اندازی میں نہ نکلے تو پھر مجھے تمام قسطیں دینی ہوں گے۔  کیا اس طرح کی اسکیم میں موٹرسائیکل خریدنا جائز ہے یا نا جائز  ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اسکیم کے ذریعے موٹر سائیکل خریدنے میں قمار (جوا) پایا جارہا ہے، جو  کہ حرام اور ناجائز ہے، لہذا اس اسکیم کے ذریعے موٹرسائیکل خریدنا جائز نہیں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخری وسمي القمار قماراً؛ لأن کلَّ واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه، ویجوز أن یستفید مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(کتاب الحظر و الإباحة، فصل في البیع، ج:6 ،ص: 404، ط : سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100442
تاریخ08-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں