بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹا کرایہ نامہ جمع كروانا

سوال

ہاؤس  رینٹ کےلیے ہمیں کہا جا رہا ہے کہ کرایہ نامہ جمع کراؤ، ورنہ تقریباً پندرہ ہزار روپے کم ملیں گے، میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا ہوں اور ان کی دیکھ بھال کرتاہوں، کرایہ نہیں دیتا ،کیا جھوٹا کرایہ نامہ جمع کروانا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جھوٹا کرایہ نامہ بنوانا اور جمع كرواناشرعًا جائز نہیں ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وقال «ألا من غشنا فليس منا»۔"

(المبسوط للسرخسي :25/ 12)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100371
تاریخ08-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں