بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میری جو حدیث قرآن کے خلاف ہو، اس حدیث کو دیوار پر ماردو، حدیث نہیں

سوال

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میری جو حدیث قرآن کے خلاف ہو، اس حدیث کو دیوار پر ماردو، یہ حدیث کون سی کتاب میں ہے؟

جواب

کتبِ حدیث میں جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی کوئی حدیث منقول نہیں اور اس کو حدیث کہنا جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ: "جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے"، لہٰذا اسے حدیث کہہ کر بیان کرنا جائز نہیں ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"وحدثنا محمد بن عبيد الغبري حدثنا أبو عوانة عن أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار»."

(ج:1، ص:10، باب في التحذير من الكذب على رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100356
تاریخ08-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں