بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کی بغیر شہوت اپنے والد کی شرم گاہ پر نگاہ پڑھنے سے حرمتِ مصاہرۃ ثابت نہیں ہوتی

سوال

ایک دفعہ میری نظر والد کی غلط جگہ  پڑگئی تھی، جب  وہ بیٹھے ہوئے تھے،  جب کہ  "أستغفراللّٰه"  میری کوئی ایسی نیت نہیں تھی اور اسی وقت میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں اس سے میری ماں حرام نہ ہوجائے۔

1-تو ایسا کچھ تو نہیں ہے؟

2-اور اس سے حرمتِ مصاہرت  تو نہیں ہوئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس وقت آپ کی نظر آپ کے والد کی شرم گاہ پر پڑی ، اُس وقت اگر آپ پر شہوت  غالب نہیں تھی تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی اور آپ کی والدہ آپ کے والد پر حرام  نہیں ہوئیں۔

فتاوی شامی میں ہے : 

"و ناظرة إلى ذكره  .... والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى، وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته.

(قوله: وناظرة) أي بشهوة ... (قوله: وفي امرأة ونحو شيخ إلخ) قال في الفتح: ثم هذا الحد في حق الشاب، أما الشيخ والعنين فحدهما تحرك قلبه أو زيادته إن كان متحركاً لا مجرد ميلان النفس، فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلاً كالشيخ الفاني، ثم قال: ولم يحدوا الحد المحرم منها أي من المرأة، وأقله تحرك القلب على وجه يشوش الخاطر قال ط: ولم أر حكم الخنثى المشكل في الشهوة، ومقتضى معاملته بالأضر أن يجري عليه حكم المرأة".

( الدر المختار مع رد المحتار: كتاب النكاح، فصل في المحرمات، (4/ 99 ) ط: دار عالم الكتب، رياض)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144307100318
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں