بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم

سوال

ایک آدمی فوت ہوا ،اس کی ایک بیوی، پانچ بیٹیاں اور پانچ بیٹے ہیں تو حصص کس طرح تقسیم ہوں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ  یہ ہے کہ مرحوم کے   حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے  کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو  (مثلاً بیوی کا مہر وغیرہ) اسے  ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال میں سے  نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد  منقولہ و غیر منقولہ کو  120حصوں میں تقسیم کرکے   15حصے   بیوہ کو،  14 حصے    ہر  ایک بیٹے کواور 7 حصے    ہر  ایک بیٹی کو  ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

ميت  8-120

بيوه بيٹا بيٹا بيٹا بيٹا بيٹا بيٹي بيٹي بيٹي بيٹي بيٹي
1 7
15 14 14 14 14 14 7 7 7 7 7

 یعنی 100 روپے میں سے   مرحوم کی بیوہ  کو12.5 روپے ،  ہر  ایک بیٹے کو  11.667روپے  اور  ہر  ایک بیٹی کو 5.833 روپے ملیں گے۔

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100306
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں