بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو میں موزوں پر مسح کرنا بھول جائے تو صرف مسح کافی ہے دوبارہ مکمل وضوکرناضروری نہیں

سوال

اگر موزے پر مسح کرنا بھول جاۓ اور پھر دوران نماز یاد آ جائے   تو صرف مسح کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں یا دوبارہ مکمل وضو کریں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں وضوکرتےہوئےاگرموزوں پرمسح کرنابھول جائے توياد آنے پرصرف موزوں پر مسح کرناکافی ہے ، دوبارہ مکمل وضوکرناضروری نہیں ہے۔

المحيط البرهاني  میں ہے:

"و لو توضأ ونسي مسح خفيه، ثم فاض الماء، فأصاب الماء ظاهر خفيه، يجزئه عن المسح، لأن المقصود والمأمور به وصول البلة و قد وجد."

(‌‌ کتاب الطھارات، الفصل السادس، في المسح على الخفين ، 1/ 168 ط: دارالكتب العلمية )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100280
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں