بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا عدالت سے یک طرفہ خلع لینے سے شرعا نکاح ختم نہیں ہوتا

سوال

عدالت عالیہ سے یکطرفہ خلع کی ڈگری لینے سے نکاح ختم ہو جاتا ہے، خاوند کو نوٹس دیے بغیر؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح ختم نہیں ہوتا۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والخلع جائز عند السلطان وغیره لأنه عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وهو بمنزلۃ الطلاق بعوض."

(باب الخلع،6/ 173،ط:دار الفکر)

 بدائع الصنائع  میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول...."

(کتاب الطلاق،فصل وأماالذی یرجع إلی المرأۃ،3 /145،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100279
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں