بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کی 70کنال زمین کی تقسیم کا طریقہ

سوال

70 کنال زمین  میں سے 5 بھائیوں ،2 بہنوں  اور ایک والدہ کو  کتنا کتنا حصہ آئے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اپنے والد کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ معلوم کر نا چاہ رہاہے تو  اس کی تقسیم کا  طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم  کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین  کا خرچہ نکا لنے کے بعد  ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد، اگرانہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعد  کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو96حصوں میں تقسیم کرکے،12 حصے مرحوم کی بیوہ یعنی سائل کی والدہ کو ، 14حصے ہر ایک بیٹے یعنی سائل سمیت اس کے ہر ایک بھائی کو اور 7،7حصے ہر ایک بیٹی یعنی سائل کی ہر ایک بہن کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:96/8(مرحوم والد)

بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1 7
12 14 14 14 14 14 7 7

70کنال زمین میں سے 8.75کنال  مرحوم کی بیوہ یعنی سائل کی والدہ کو ،10.208کنال ہر ایک بیٹے یعنی سائل سمیت اس كے  هر ایک بھائی کو اور5.104کنال ہر ایک بیٹی یعنی سائل کی ہر ایک بہن کو ملیں گے۔

اور اگر سائل کی مراد مرحوم سے والد کے علاوہ کوئی اور ہو تو اس صورت میں ترکہ کی تقسیم مختلف ہوگی، اس کی وضاحت لکھ کر دوبارہ دارالافتاء سے رجوع کریں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100253
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں