بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنسی دوائی کی خرید و فروخت کا حکم

سوال

 میرا اپنا ذاتی  میڈیکل اسٹورہے،جس میں تمام ادویات کےساتھ جنسی ادویات کی بھی خریدوفروخت ہوتی ہے، جس میں منافع بھی زیادہ ہے،اس صورت میں جنسی ادویات کی خریدوفروخت کرناکیساہے ؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں  اگر  ان جنسی ادویات  میں حرام  یا مضرِ صحت اجزاء شامل نہیں ہیں،اور ان ادویات کی خرید وفروخت پر حکومت کی جانب سے پابندی نہیں ہے ، تو سائل کے لیے اپنے میڈیکل اسٹور  پرادویات  کی خرید وفروخت جائز ہے، لیکن اگر ان ادویات کی خرید و فروخت پر حکومت کی جانب سے پابندی ہو یا ان ادویات میں حرام یا مضرِصحت  اجزاء شامل ہوں، تو پھر سائل کے لیے ان ادویات کو اپنے میڈیکل اسٹور پر فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

ردالمحتار میں ہے:

"اختلف في التداوي بالمحرم  وظاهر المذهب المنع ... وقیل: یرخص إذا علم فیه الشفاء ولم یعلم دواء اخر کما رخص الخمر للعطشان، وعلیه الفتوی".

(کتاب الطھارۃ، ج:1، ص:210، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307100241
تاریخ07-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں